دل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

قتیل شفائی


الفت کی نئی منزل کو چلا تو بانہیں ڈال کے بانہوں میں
دل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں
کیا کیا نہ جفائیں دل پہ سہیں پر تم سے کوئی شکوہ نہ کیا
اس جرم کو بھی شامل کر لو میرے معصوم گناہوں میں
جب چاندنی راتوں میں تم نے خود ہم سے کیا اقرارِ وفا
پھر آج ہیں ہم کیوں بیگانے تیری بے رحم نگاہوں میں
ہم بھی ہیں وہی تم بھی ہو وہی یہ اپنی اپنی قسمت ہے
تم کھیل رہے ہو خوشیوں سے ہم ڈوب گئے ہیں آہوں میں
فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن فعلن
بحرِ زمزمہ/ متدارک مثمن مضاعف
فہرست