زندگی یا طوائف

قتیل شفائی


مطمئن کوئی نہیں ہے اس سے
کوئی برہم ہے تو خائف کوئی
نہیں کرتی یہ کسی سے بھی وفا
زندگی ہے کہ طوائف کوئی
 
فہرست