اس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آج

نوح ناروی


کیا وصل کے اقرار پہ مجھ کو ہو خوشی آج
اس کی بھی یہ صورت ہے کبھی کل ہے کبھی آج
وہ ہاتھ میں تلوار لیے سر پہ کھڑے ہیں
مرنے نہیں دیتی مجھے مرنے کی خوشی آج
ملنا جو نہ ہو تم کو تو کہہ دو نہ ملیں گے
یہ کیا کبھی پرسوں ہے کبھی کل ہے کبھی آج
کیا بات ہے چھپتی ہی نہیں بات ہماری
جو ان سے کہی تھی وہ رقیبوں سے سنی آج
سرخی بھی ہے آنکھوں میں قدم کو بھی ہے لغزش
چھپ کر کہیں اے نوحؔ ضرور اپنے پی آج
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست