ملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہے

نوح ناروی


کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے
ملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہے
کیا چشمِ عنایت کا تری مجھ کو بھروسا
لڑ لڑ کے ملی ہے کبھی مل مل کے لڑی ہے
کیا جانیے کیا حال ہمارا ہو شبِ ہجر
اللہ ابھی چار پہر رات پڑی ہے
تلوار لیے وہ نہیں مقتل میں کھڑے ہیں
اس وقت مرے آگے مری موت کھڑی ہے
جینے نہیں دیتے ہیں وہ مرنے نہیں دیتے
اے نوحؔ مری جان کشاکش میں پڑی ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست