پھر وہی ہم ہیں وہی دشت ستم

ماجد صدیقی


رہ بہ رہ پھر وہی اندیشۂ غم
پھر وہی ہم ہیں وہی دشت ستم
زندگانی سے الجھنا ہے مجھے
رہنے دیجے گا مجھی تک مرا غم
ہم گرفتارِ بلا ٹھہریں گے
وقت پھیلائے گا پھر دام ستم
وقت اک شعلۂ لرزاں ماجدؔ
زندگی ایک خیال مبہم
فاعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مسدس مخبون محذوف مسکن
فہرست