ہولے سے مرے دل میں کہیں سے اتر آؤ

ماجد صدیقی


لے کر مہِ شب تاب سے کرنوں کا بہاؤ
ہولے سے مرے دل میں کہیں سے اتر آؤ
چپ چاپ ہو جیسے کوئی بن باس پہ نکلے
اے دل کی تمناؤ! کوئی حشر اٹھاؤ
کچھ ماند تو پڑ جائیں گے باتوں کی نمی سے
آؤ کہ دہکتے ہیں خموشی کے الاؤ
پھرتا ہے کچھ اس طور سے مغرور و گریزاں
ہے وقت بھی جیسے ترے ابرو کا تناؤ
اترے ہیں جو اس میں تو کھلے گا کبھی ماجدؔ
لے جائے کہاں جھومتے دریا کا بہاؤ
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست