چاند سا بدن اس کا اور بھی نکھر جاتا

ماجد صدیقی


میں جو اس کے قدموں میں ریت سا بکھر جاتا
چاند سا بدن اس کا اور بھی نکھر جاتا
کیوں نظر میں چبھتا تھا عکس اک گریزاں سا
تھا اگر وہ کانٹا ہی پار تو اتر جاتا
وہ یونہی گھرا رہتا ہجر کے حصاروں میں
اور میں کہ طوفاں تھا الجھنوں سے ڈر جاتا
عمر بھر کو دے جاتا نشۂ شباب اپنا
اور بھی جو کچھ لمحے پاس وہ ٹھہر جاتا
دوش پر ہواؤں کے برگِ زرد سا ماجدؔ
ڈھونڈنے اسے اک دن میں بھی در بہ در جاتا
فاعِلن مفاعیلن فاعِلن مفاعیلن
ہزج مثمن اشتر
فہرست