کہیں ایسا نہ ہو بن جاؤں خود اپنا تمنائی

حفیظ ہوشیارپوری


من و تو کا حجاب اٹھنے نہ دے اے جان یکتائی
کہیں ایسا نہ ہو بن جاؤں خود اپنا تمنائی
وہی میں ہوں وہی ہے تیرے غم کی کار فرمائی
کبھی تنہائی میں محفل کبھی محفل میں تنہائی
خلش انگیز ہے وہ عالم جذب و گریز اب تک
تری اچھی بری ہر بات یوں تو مجھ کو یاد آئی
قصور ظرف سمجھوں یا شعور لذت اندوزی
ترے لطف و کرم میں تشنگی ہی تشنگی پائی
نہ چھوڑا دامن ہوش و خرد دل نے محبت میں
سزائے دل حصار آ گہی کی قیدِ تنہائی
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست