ہم سے مہ و انجم آشنا ہیں

حفیظ ہوشیارپوری


اک عمر سے ہم تم آشنا ہیں
ہم سے مہ و انجم آشنا ہیں
دل ڈوبتا جا رہا ہے پیہم
لب ہیں کہ تبسم آشنا ہیں
ان منزلوں کا سراغ کم ہے
جن منزلوں میں گم آشنا ہیں
کچھ چارۂ درد آشنائی
کس سوچ میں گم سم آشنا ہیں
اس دور میں تشنہ کام ساقی
ہم جیسے کئی خم آشنا ہیں
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست