اک موج ترنم کی ہوس میں ہیں فضائیں

شان الحق حقی


ایمائے غزل کرتی ہیں موسم کی ادائیں
اک موج ترنم کی ہوس میں ہیں فضائیں
نغموں کی زباں میں کوئی سمجھے تو بتائیں
کیا چیز ہے یہ طرز یہ طرحیں یہ ادائیں
روکے نہ گئے سینۂ خارا سے وہ طوفاں
ہیں جن کو کناروں میں لیے ننگ قبائیں
آئینے سے ہوتی ہیں صلاحیں کہ کسی کو
جب خوب مٹانا ہو تو کس طرح مٹائیں
ایسی ہی ترے شہر میں ہوتی ہے مروت
ایسی ہی مرے دیس میں ہوتی ہیں وفائیں
دیکھے کوئی افلاک کا یہ جوش تباہی
تنکے کو ڈرنا ہو تو طوفان اٹھائیں
ٹھہرا ہوں اسی بات پہ میں لائقِ تعزیر
جس بات پہ بخشی گئیں اوروں کی خطائیں
دیوانوں کو دنیا سے الجھنے کی کہاں تاب
فرصت ہو تو اک اور ہی دنیا نہ بنائیں
یہ کون سے زنداں کی گرائی گئی دیوار
یہ کون سی تعمیر کی اٹھتی ہیں بنائیں
اے مسکن خوبان زماں شہر عزیزاں
ہم بھی کبھی بکنے ترے بازار میں آئیں
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست