سینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہم

فانی بدایونی


دل اور دل میں یاد کسی خوش خرام کی
سینے میں حشر لے کے چلے ہیں جہاں سے ہم
اب چارہ سازی دلِ بیمار کیا کریں
اے مرگِ ناگہاں تجھے لائیں کہاں سے ہم
اللہ رکھے ہم کو سہارا ہے ضعف کا
بیٹھے تو پھر اٹھیں گے نہ اس آستاں سے ہم
کیا کیا دیے فریب غمِ عشق یار نے
دل ہم سے بدگمان ہے اور راز داں سے ہم
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست