فراز اور اسے حالِ دل سنانے جا

احمد فراز


کہا تھا کس نے تجھے آبرو گنوانے جا
فراز اور اسے حالِ دل سنانے جا
کل اک فقیر نے کس سادگی سے مجھ سے کہا
تری جبیں کو بھی ترسیں گے آستانے! جا
اسے بھی ہم نے گنوایا تری خوشی کے لیے
تجھے بھی دیکھ لیا ہے ارے زمانے جا
بہت ہے دولتِ پندار پھر بھی دیوانے
جو تجھ سے روٹھ چکا ہے اسے منانے جا
سنا ہے اس نے سوئمبر کی رسم تازہ کی
فراز تو بھی مقدر کو آزمانے جا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست