جب کہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا

احمد فراز


سنگ دل ہے وہ تو کیوں اس کا گلہ میں نے کیا
جب کہ خود پتھر کو بت، بت کو خدا میں نے کیا
کیسے نامانوس لفظوں کی کہانی تھا وہ شخص
اس کو کتنی مشکلوں سے ترجمہ میں نے کیا
وہ مری پہلی محبت وہ مری پہلی شکست
پھر تو پیمانِ وفا سو مرتبہ میں نے کیا
ہوں سزاوار سزا کیوں جب مقدر میں مرے
جو بھی اس جانِ جہاں نے لکھ دیا میں نے کیا
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست