اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا

کلیم عاجز


دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا
اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا
یہ مختصر سی ہے روداد صبح مے خانہ
زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا
یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے
پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا
نہ آئیں اہلِ خرد وادی جنوں کی طرف
یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا
لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے
بڑے غضب کا کلیجا تھا مرنے والوں کا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست