یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے

ناصر کاظمی


شہرِ در شہر گھر جلائے گئے
یوں بھی جشنِ طرب منائے گئے
اک طرف جھوم کر بہار آئی
اک طرف آشیاں جلائے گئے
اک طرف خونِ دل بھی تھا نایاب
اک طرف جشنِ جم منائے گئے
کیا کہوں کس طرح سربازار
عصمتوں کے دیے بجھائے گئے
آہ وہ خلوتوں کے سرمائے
مجمعِ عام میں لٹائے گئے
وقت کے ساتھ ہم بھی اے ناصرؔ
خار و خس کی طرح بہائے گئے
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست