تمہارے ہوتے ہوئے ہم اداس کیسے ہوئے

عرفان صدیقی


نہ جانے اتنے وفا ناشناس کیسے ہوئے
تمہارے ہوتے ہوئے ہم اداس کیسے ہوئے
جو خواب میں نظر آتے تو چونک جاتا تھا
وہ حادثے مری آنکھوں کو راس کیسے ہوئے
دلوں میں اب وہ پرانی کدورتیں بھی نہیں
یہ سایہ دار شجرِ بے لباس کیسے ہوئے
یہ نرم لہجہ تمہارا چلن نہ تھا عرفانؔ
تم آج ایسے زمانہ شناس کیسے ہوئے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فَعِلاتن
مجتث مثمن مخبون
فہرست