حرف لکھے کچھ، بادِ صبا نے

ماجد صدیقی


پھول کہو یا دل کے فسانے
حرف لکھے کچھ، بادِ صبا نے
برف سے اجلے چہروں والے
آ جاتے ہیں جی کو جلانے
داغ رخ مہ کا دکھ میرا
میری حقیقت کون نہ جانے
فکر و نظر پر دھول جمائی
آہوں کی بے درد ہوا نے
دو آنکھوں کے جام لنڈھا کر
دو ہونٹوں کے پھول کھلانے
دونوں ہاتھ نقاب کی صورت
رکھنے، اور رخ پر سے ہٹانے
ماجدؔ انجانے میں ہم بھی
بیٹھ رہے کیوں جی کو جلانے
فہرست