رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے

ماجد صدیقی


پہنچے بہ کوئے دل کہ نظر سے گزر گئے
رنگینیاں بکھیر گئے تم جدھر گئے
حاصل تجھے ہے تیرے قدر و رخ سے یہ مقام
اور ہم بزور نطق دلوں میں اتر گئے
آیا جہاں کہیں بھی میسر ترا خیال
نکلے دیار شب سے بہ کوئے سحر گئے
جن کے چمن کو تو نے بہار خیال دی
ماجدؔ ترے وہ دوست کہاں تھے کدھر گئے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست