ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے

ماجد صدیقی


تم بھول گئے کہ یاد آئے
ہم اتنا بھی سوچنے نہ پائے
مرتے ہیں ہمیں ترے نہ ہوتے
روتے ہیں ہمیں ترے بن آئے
گزرے ہیں تری گلی سے لیکن
دل تھامے ہوئے نظر چرائے
ہم بھی ترے مدعی ہوئے تھے
ہم بھی غم ہجر ساتھ لائے
ظلمت سے نظر چرانے والو
شب، خونِ جگر نہ چاٹ جائے
سہلا نہ سکے اگر تو ماجدؔ
موسم، کوئی تیر ہی چلائے
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست