آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے

ماجد صدیقی


تجھ سے کہنے کی بس اب یہی بات ہے
آج پھر چاند کی چودہویں رات ہے
اپنی خواہش، کہ گل پیرہن ہو چلیں
اور فضائے چمن، وقف حالات ہے
چار سو ایک ہی منظر بے سکوں
چار سو خشک پتوں کی برسات ہے
اب تو ماجدؔ خزاں کے نہ منکر رہو
شاخ پر اب تو کوئی کوئی پات ہے
فاعِلن فاعِلن فاعِلن فاعِلن
متدارک مثمن سالم
فہرست