میں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا

ماجد صدیقی


تھا نہ جانے کون سے بے رحم ڈر کا سامنا
میں نہ کر پایا کبھی اپنی نظر کا سامنا
کرچیاں اتری ہیں آنکھوں میں اندھیری رات کی
اور ادھر مژدہ کہ لو کیجو سحر کا سامنا
ننھی ننھی خواہشوں کا مدفن بے نور سا
زندگی ہے اب تو جیسے اپنے گھر کا سامنا
تجربہ زنداں میں رہنے کا بھی مجھ کو دے گیا
بعد جانے کے ترے دیوار و در کا سامنا
پیرہن کیا جسم کا حصہ سمجھیے اب اسے
تا بہ منزل ہے اسی گردِ سفر کا سامنا
دیکھنے زیبا ہیں کب ایسے کھنڈر بعد خزاں
کون اب کرنے چلے شاخ و شجر کا سامنا
کچھ کہو یہ کس جنم کی ہے سزا ماجدؔ تمہیں
روز و شب کیوں ہے یہ تخلیقِ ہنر کا سامنا
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست