ورنہ اس شہر میں کیا کیا تھے نہ آزار ہمیں

ماجد صدیقی


تھا میسر ہی نہ پیرایۂ اظہار ہمیں
ورنہ اس شہر میں کیا کیا تھے نہ آزار ہمیں
کن بگولوں کے حصاروں میں کھڑے دیکھتے ہیں
اب کے پت جھڑ میں سلگتے ہوئے گلزار ہمیں
وقت بدلا ہے تو گوشوں میں چھپے بیٹھے ہیں
وہ جو کرتے رہے رسوا سرِ بازار ہمیں
کل تھا کس رنگ میں اور آج سرِ بزم وفا
کیا نظر آیا ہے وہ حسن طرح دار ہمیں
کب سے دیتا ہے صدا کوئی پری وش ماجدؔ
عنبر و عود لٹاتے ہوئے اس پار ہمیں
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست