پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی راہگزر ملے

ماجد صدیقی


تو مدعا ہو اور ترا غم ہم سفر ملے
پھر کیوں نہ ہر قدم پہ نئی راہگزر ملے
اب ہم سے مستیاں وہ، طلب کر نہ اے صبا!
مدت ہوئی کسی کی نظر سے نظر ملے
حسن حبیب اب لب و رخسار تک نہیں
اب تو جنوں بضد ہے کہ حسنِ نظر ملے
اک عمر سے گھرے ہیں اسی بے بسی میں ہم
تجھ تک اڑان کو نہ مگر بال و پر ملے
مطرب! بہ رقص گا، مرے ماجدؔ کی یہ غزل
تجھ سے مرا وہ سروِ چراغاں اگر ملے
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست