میں پھر بھی تجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا

ماجد صدیقی


تو پھول تھا، مہک تھا صدا کی ادا بھی تھا
میں پھر بھی تجھ سے تیرا پتہ پوچھتا رہا
جل بجھ کے رہ گیا ہوں بس اپنی ہی آگ میں
کس زاویے پہ آ کے مقابل ترے ہوا
شب بھر ترے جمال سے چنتا رہا وہ پھول
پھوٹی سحر تو میں بھی سحر کی مثال تھا
میں ہی تو تھا کہ جس نے دکھایا جہان کو
تیشے سے اک پہاڑ کا سینہ چھدا ہوا
بدلا ہے گلستاں نے نیا پیرہن اگر
گدڑی پہ ہم نے بھی نیا ٹانکا لگا لیا
میں تھا اور اس کا وقتِ سفر تھا اور ایک دھند
ہاں اس کے بعد پھر کبھی دیکھا نہ زلزلہ
بعد خزاں ہے جب سے تہی دست ہو گئی
سہلا رہی ہے شاخِ برہنہ کو پھر ہوا
میں تو ہوا تھا تیر کے لگتے ہی غرق آب
تالاب بھر میں خون مرا پھیلتا گیا
ہر اک نظر پہ کھول دیا تو نے اپنا آپ
دل کا جو بھید تھا اسے ماتھے پہ لکھ لیا
واضح ہیں ہر کسی پہ ترے جسم کے خطوط
تو تو چھپی سی چیز تھی تو نے یہ کیا کیا
اک بات یہ بھی مان کہ ماجدؔ غم و الم
پیروں کی خاک میں نہ انہیں سر پہ تو اٹھا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست