امام بخش ناسخ


بہادر شاہ ظفر


داغ دہلوی


مصحفی غلام ہمدانی


مومن خان مومن


میر مہدی مجروح


مرزا رفیع سودا


یگانہ چنگیزی


باقی صدیقی


جون ایلیا


جگر مراد آبادی


خواجہ میر درد


قمر جلالوی


شکیب جلالی


عرفان صدیقی


مجید امجد


جمال احسانی


رئیس فروغؔ


احسان دانش


اختر شیرانی


اسرار الحق مجاز


بشیر بدر


زہرا نگاہ


ضیا جالندھری


ظہیر کاشمیری


عالم تاب تشنہ


عبید اللہ علیم


فارغ بخاری


ماجد صدیقی


جوش ملیح آبادی


حسرت موہانی


حفیظ جالندھری


رسا چغتائی


خاطر غزنوی


سیماب اکبر آبادی


عزیز حامد مدنی


اختر ہوشیارپوری


احمد فراز


امیر مینائی


شاذ تمکنت


فراق گورکھپوری


قیوم نظر


محبوب خزاں


محسن نقوی


ناصر کاظمی

تو جب میرے گھر آیا تھا
میں اک سپنا دیکھ رہا تھا
تیرے بالوں کی خوشبو سے
سارا آنگن مہک رہا تھا
تیری نیند بھی اڑی اڑی تھی
میں بھی کچھ کچھ جاگ رہا تھا
دو روحوں کا پیاسا بادل
گرج گرج کر برس رہا تھا
لال کھجوروں کی چھتری پر
سبز کبوتر بول رہا تھا
دور کے پیڑ کا جلتا سایہ
ہم دونوں کو دیکھ رہا تھا
شام کا شیشہ کانپ رہا تھا
پیڑوں پر سونا بکھرا تھا
پچھلے پہر کا سناٹا تھا
تارا تارا جاگ رہا تھا
پتھر کی دیوار سے لگ کر
آئینہ تجھے دیکھ رہا تھا
تیرے سائے کی لہروں کو
میرا سایا کاٹ رہا تھا
بھیگے کپڑے کی لہروں میں
کندن سونا دمک رہا تھا
تو جب دو بارہ آیا تھا
میں ترا رستہ دیکھ رہا تھا
پچھلی رات کی تیز ہوا میں
کورا کاغذ بول رہا تھا
تجھ کو جانے کی جلدی تھی
اور میں تجھ کو روک رہا تھا
ایک کے الٹے پیر تھے لیکن
وہ تیزی سے بھاگ رہا تھا
گہری گہری تیز آنکھوں سے
وہ پانی مجھے دیکھ رہا تھا
بارہ سکھیوںں کا اک جھرمٹ
سیج پہ چکر کاٹ رہا تھا
تیرے ہاتھ کی چائے تو پی تھی
دل کا رنج تو دل میں رہا تھا
وہ جنت مرے دل میں چھپی تھی
میں جسے باہر ڈھونڈ رہا تھا
میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
خالی رستہ بول رہا ہے
ساری بستی سو گئی ناصر
تو اب تک کیوں جاگ رہا ہے
جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں
ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے
پھر لہو بول رہا ہے دل میں
دم بدم کوئی صدا ہے دل میں