سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا

امیر مینائی


ایک دل ہمدم، مرے پہلو سے ، کیا جاتا رہا
سب تڑپنے تلملانے کا مزا جاتا رہا
سب کرشمے تھے جوانی کے ، جوانی کیا گئی
وہ امنگیں مٹ گئیں، وہ ولولا جاتا رہا
درد باقی، غم سلامت ہے ، مگر اب دل کہاں
ہائے وہ غمِ دوست، وہ درد آشنا جاتا رہا
آنے والا، جانے والا، بیکسی میں کون تھا
ہاں مگر اک دم، غریب آتا رہا جاتا رہا
آنکھ کیا ہے ، موہنی ہے ، سحر ہے ، اعجاز ہے
اک نگاہِ لطف میں سارا گلا جاتا رہا
جب تلک تم تھے کشیدہ، دل تھا شکووں سے بھرا
تم گلے سے مل گئے ، سارا گلا جاتا رہا
کھو گیا دل کھو گیا، رہتا تو کیا ہوتا، امیر
جانے دو اک بے وفا جاتا رہا جاتا رہا
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مثمن محذوف
فہرست