مرزا غالب


انشاء اللہ خان انشا


حیدر علی آتش


مصحفی غلام ہمدانی


مصطفٰی خان شیفتہ


فیض احمد فیض


مرزا رفیع سودا


باقی صدیقی


جگر مراد آبادی


عبدالحمید عدم


قمر جلالوی


شکیب جلالی


عرفان صدیقی


مجید امجد


مصطفی زیدی


الطاف حسین حالی


جمال احسانی


اختر شیرانی


بشیر بدر


زہرا نگاہ


ضیا جالندھری


عبید اللہ علیم


غلام محمد قاصر


احمد راہی


ماجد صدیقی


تلوک چند محروم


جوش ملیح آبادی


حسرت موہانی


حفیظ جالندھری


سید ضمیر جعفری


سیف الدین سیف


سلام مچھلی شہری


شکیل بدایونی


اختر ہوشیارپوری


احمد فراز


فراق گورکھپوری

جب دل کی وفات ہو گئی ہے
ہر چیز کی رات ہو گئی ہے
اب ہو مجھے دیکھیے کہاں صبح
ان زلفوں میں رات ہو گئی ہے
اس دور میں زندگی بشر کی
بیمار کی رات ہو گئی ہے
وہ چاہیں تو وقت بھی بدل جائے
جب آئے ہیں رات ہو گئی ہے
اکا دکا صدائے زنجیر
زنداں میں رات ہو گئی ہے
وقت غروب آج کرامات ہو گئی
زلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئی
اب دور آسماں ہے نہ دور حیات ہے
اے دردِ ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے
ہر کائنات سے یہ الگ کائنات ہے
حیرت سرائے عشق میں دن ہے نہ رات ہے
کیوں انتہائے ہوش کو کہتے ہیں بے خودی
خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے
گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ
جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے
عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہو یا وصال
بس فرصت حیات فراقؔ ایک رات ہے
یہ نکہتوں کی نرم روی یہ ہوا یہ رات
یاد آ رہے ہیں عشق کو ٹوٹے تعلقات
اک عمر کٹ گئی ہے ترے انتظار میں
ایسے بھی ہیں کہ کٹ نہ سکی جن سے ایک رات
ہم اہل انتظار کے آہٹ پہ کان تھے
ٹھنڈی ہوا تھی غم تھا ترا ڈھل چلی تھی رات
کیا نیند آئے اس کو جسے جاگنا نہ آئے
جو دن کو دن کرے وہ کرے رات کو بھی رات
تری نگاہ کی صبحیں نگاہ کی شامیں
حریمِ راز یہ دنیا جہاں نہ دن ہیں نہ رات
تمام خستگی و ماندگی ہے عالم ہجر
تھکے تھکے سے یہ تارے تھکی تھکی سی یہ رات

قتیل شفائی


کلیم عاجز


کیف بھوپالی


محبوب خزاں


مجروح سلطان پوری


ناصر کاظمی


نوح ناروی