ہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے

حسرت موہانی


روش حسن مراعات چلی جاتی ہے
ہم سے اور ان سے وہی بات چلی جاتی ہے
اس جفا جو سے بایمائے تمنا اب تک
ہوس لطف و عنایات چلی جاتی ہے
مل ہی جاتے ہیں پشیمانی غم کے اسباب
شوق حرماں کی مدارات چلی جاتی ہے
ہم سے ہر چند وہ ظاہر میں خفا ہیں لیکن
کوشش پرسشِ حالات چلی جاتی ہے
دن کو ہم ان سے بگڑتے ہیں وہ شب کو ہم سے
رسم پابندی اوقات چلی جاتی ہے
اس ستم گر کو ستم گر نہیں کہتے بنتا
سعی تاویل خیالات چلی جاتی ہے
نگہِ یار سے پا لیتے ہیں دل کی باتیں
شہرت کشف و کرامات چلی جاتی ہے
حیرت حسن نے مجبور کیا ہے حسرتؔ
وصل جاناں کی یوں ہی رات چلی جاتی ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست