ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا

ماجد صدیقی


جھان کے جو بام پر سے سورج تری ہنسی کا
ہم بھی کریں مداوا، یخ بستہ خامشی کا
کھلتے ہوئے لبوں پر مہریں لگا کے بیٹھیں
تھا کیا یہی تقاضا ہم سے کلی کلی کا
اب آنکھ بھی جو اٹھے، جی کانپتا ہے اپنا
کیا حشر کر لیا ہے ہمت رہی سہی کا
پھر سنگ بھی جو ہوتی اپنی زباں تو کیا تھا
دعوےٰ اگر نہ ہوتا ہم کو سخنوری کا
بستر لپیٹ کر ہم اٹھ جائیں رہ سے اس کی
مقصد نہیں تھا شاید ایسا تو مدعی کا
ماجدؔ لبوں کے غنچے چٹکے دھواں اگلتے
تھا یہ بھی ایک پہلو افسردہ خاطری کا
مفعول فاعِلاتن مفعول فاعِلاتن
مضارع مثمن اخرب
فہرست