کوئی نمو کا بھی رخ دیجیے زمانے کو

ماجد صدیقی


کشید خاک سے آتش تو کی جلانے کو
کوئی نمو کا بھی رخ دیجیے زمانے کو
لگے بھی ہاتھ تو کس کے ستم کشان جہاں
سجا رہا ہے جو کولھو میں دانے دانے کو
لہو میں لتھڑے ہوئے پاؤں لے کے دھرتی سے
چلا ہے چاند پہ انساں قدم جمانے کو
کسی بھی عہد میں وحشت کا تھا نہ یہ انداز
ہر ایک ہاتھ میں کب جال تھے بچھانے کو
ہر ایک شخص سے ہر ایک شخص بیگانہ
یہ کیا ہوا ہے یکایک مرے زمانے کو
وہ سن کے زخم بھی ماجدؔ ترے کریدیں گے
جنہیں چلا ہے حکایات غم سنانے کو
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست