پاگل نہ بن، رتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ

ماجد صدیقی


کانٹوں کے درمیاں گلِ تر کا نشاں بھی دیکھ
پاگل نہ بن، رتوں کو کبھی مہرباں بھی دیکھ
ہاتھوں میں میرے، صفحۂ سادہ پہ کر نظر
اظہارِ غم کو ترسی ہوئی انگلیاں بھی دیکھ
تو اور سراپا بس میں ہمارے ہو! ہائے ہائے!!
ہم پر یہ ایک تہمت اہلِ جہاں بھی دیکھ
تھا زیست میں بہار کا طوفاں بھی پل دو پل
اس بحر میں تموج گرد خزاں بھی دیکھ
سہمی ہوئی حیات کو یوں مختصر نہ جان
لمحے میں جھانک اور اسے بیکراں بھی دیکھ
ردی کے بھاؤ بیچا گیا ہوں کسی کے ہاتھ
لے کو بکو بکھرتی مری داستاں بھی دیکھ
ماجدؔ ہے جس کا شور سماعت میں اب تلک
اس سیل تند و تیز کے چھوڑے نشاں بھی دیکھ
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست