ذات اپنی ہی دے اٹھی خوشبو

ماجد صدیقی


ہے جنوں عطر، آ گہی خوشبو
ذات اپنی ہی دے اٹھی خوشبو
دل معطر ہے یاد حسن کے ساتھ
لب پہ ہے ذکرِ یار کی خوشبو
اب بھی ہیں سلسلے وہی تیرے
گل پیمبر، پیمبری خوشبو
آنے لگتی ہے تیرے نام کے ساتھ
ہر گماں سے یقین کی خوشبو
جسم مہکا ہے پھر کوئی ماجدؔ
ہے پریشاں گلی گلی خوشبو
فاعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
خفیف مسدس مخبون محذوف مقطوع
فہرست