پھر بھی امید کی آغوش ہے خالی یارو

ماجد صدیقی


ہم نے تو درد سے بھی آنکھ لڑا لی یارو
پھر بھی امید کی آغوش ہے خالی یارو
شکر ہے تم نے یہ راہیں نہیں دیکھیں اب تک
ہم تو در در پہ گئے بن کے سوالی یارو
آنکھ ہی دید سے محروم ہے ورنہ ہر سو
ہے وہی عارض و رخسار کی لالی یارو
جانے کس دور کا رہ رہ کے سناتی ہے پیام
زرد پتوں سے یہ بجتی ہوئی تالی یارو
عظمت رفتۂ فن لوٹ کے آتی دیکھو
طرز اب کے ہے وہ ماجدؔ نے نکالی یارو
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست