جس کا کھلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا

ماجد صدیقی


ہر لمحہ اک بند کلی اور بول مرے تھے بادِ صبا
جس کا کھلنا یا مرجھانا بس سے مرے باہر بھی نہ تھا
پھول کھلے تو میں خود چھپ کر بیٹھ رہا ویرانوں میں
بیت گیا جب موسمِ گل تو اجڑے بن میں کود پڑا
میں مجرم ہوں میں نے زہر سمویا اپنی سانسوں میں
اے جیون اے عادل دوراں، للہ مجھ پر رحم نہ کھا
اے جینے کے رستے مجھ پر اور بھی کچھ ہو بند ابھی
میں کہ نہیں ہوں اندھا بھی تو میری آنکھیں کھول ذرا
ٹنڈ شجر اور شاخیں، اجڑی آنکھیں جیسے بیوہ کی
کس موسم کا ماتھا ماجدؔ میں نے بڑھ کر چوم لیا
فہرست