ہاں دیکھ ہماری سادگی کو

ماجد صدیقی


ہم خاک ہوئے تری خوشی کو
ہاں دیکھ ہماری سادگی کو
اے واہمۂ فراق جاناں
پیروں میں کچل نہ دوں تجھی کو
تم مجھ سے جدا ہوئے تو ہوتے
پھر دیکھتے میری بے کلی کو
ظلمت ہی جہاں نظر نظر ہو
چاہے کوئی کیسے روشنی کو
یہ لطفِ سخن کہاں تھا ماجدؔ
بیتے ہیں برس سخنوری کو
مفعول مفاعِلن فَعُولن
ہزج مسدس اخرب مقبوض محذوف
فہرست