جو تجھے چاہے اسے کیا چاہیے

جلیل مانک پوری


چاہیے دنیا نہ عقبیٰ چاہیے
جو تجھے چاہے اسے کیا چاہیے
زندگی کیا جو بسر ہو چین سے
دل میں تھوڑی سی تمنا چاہیے
تابِ نظارہ ان آنکھوں کو کہاں
دیکھنے والوں سے پردا چاہیے
مجھ کو دیکھو اور میری آرزو
اک حسیں اچھے سے اچھا چاہیے
وہ بہت دیر آشنا ہے اے جلیلؔ
آشنائی کو زمانا چاہیے
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست