عشق کی مجبوریاں لاچاریاں

حفیظ جالندھری


حسن نے سیکھیں غریب آزاریاں
عشق کی مجبوریاں لاچاریاں
بہہ گیا دل حسرتوں کے خون میں
لے گئیں بیمار کو بیماریاں
سوچ کر غم دیجیے ایسا نہ ہو
آپ کو کرنی پڑیں غم خواریاں
دار کے قدموں میں بھی پہنچی نہ عقل
عشق ہی کے سر رہیں سرداریاں
اک طرف جنسِ وفا قیمت طلب
اک طرف میں اور مری ناداریاں
ہوتے ہوتے جان دوبھر ہو گئی
بڑھتے بڑھتے بڑھ گئیں بے زاریاں
تم نے دنیا ہی بدل ڈالی مری
اب تو رہنے دو یہ دنیا داریاں
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن
رمل مسدس محذوف
فہرست