آواز نفس ہی جسے آواز درا ہو

حفیظ جالندھری


وہ قافلہ آرام طلب ہو بھی تو کیا ہو
آواز نفس ہی جسے آواز درا ہو
خاموش ہو کیوں دردِ محبت کے گواہو
دعوے کو نباہو مرے نالو مری آہو
ہر روز جو سمجھانے چلے آتے ہو ناصح
میں پوچھتا ہوں تم مجھے سمجھے ہوئے کیا ہو
اس دار بقا میں مری صورت کوئی دیکھے
اک دم کا بھروسا ہے جو اک دم میں فنا ہو
مجھ کو نہ سنا خضر و سکندر کے فسانے
میرے لیے یکساں ہے فنا ہو کہ بقا ہو
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست