یہ مگر کیا خبر تھی تعاقب میں ہے ایک نادیدہ زنجیر ہمسائیگی

رسا چغتائی


میں نے سوچا تھا اس اجنبی شہر میں زندگی چلتے پھرتے گزر جائے گی
یہ مگر کیا خبر تھی تعاقب میں ہے ایک نادیدہ زنجیر ہمسائیگی
یہ درختوں کے سائے جو چپ چاپ ہیں ہم محبت زدوں کے یہ ہم راز ہیں
اب یہیں دیکھنا رات پچھلے پہر دو دھڑکتے دلوں کی صدا آئے گی
غم کا سورج ڈھلا درد کا چاند بھی بجھ چلے آنسوؤں کے دیے آج بھی
اور اسی سوچ میں اب سحر آئے گی اب سحر آئے گی اب سحر آئے گی
لاکھ پھولوں پہ پہرے بٹھاتے رہیں لاکھ اونچی فصیلیں اٹھاتے رہیں
جائے گی سوئے گلزار جب بھی صبا اپنی آواز زنجیرِ پا جائے گی
روشنی شمع کی خود گلو گیر ہے ہنسنا تہذیب ہے جلنا تقدیر ہے
وہ مگر قطرۂ اشک شبنم جسے صبح کی سب سے پہلی کرن پائے گی
فہرست