تجلی رخ جاناں دکھائی جاتی ہے

شکیل بدایونی


نظر سے قید تعین اٹھائی جاتی ہے
تجلی رخ جاناں دکھائی جاتی ہے
جب ان کو حوصلۂ دل پہ اعتبار نہیں
تو پھر نظر سے نظر کیوں ملائی جاتی ہے
خم و سبو کی ضرورت کے ہم نہیں قائل
شراب مست نظر سے پلائی جاتی ہے
ستم نوازی پیہم ہے عشق کی فطرت
فضول حسن پہ تہمت لگائی جاتی ہے
بھلا دیا ہے غمِ روزگار نے جس کو
وہ داستاں مجھے پھر یاد آئی جاتی ہے
شکیلؔ دوریِ منزل سے ناامید نہ ہو
اب آئی جاتی ہے منزل اب آئی جاتی ہے
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست