اب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہے

فانی بدایونی


جینے کی ہے امید نہ مرنے کا یقیں ہے
اب دل کا یہ عالم ہے نہ دنیا ہے نہ دیں ہے
گم ہیں رہ تسلیم میں طالب بھی طلب بھی
سجدہ ہی در یار ہے سجدہ ہی جبیں ہے
کچھ مظہر باطن ہوں تو کچھ محرم ظاہر
میری ہی وہ ہستی ہے کہ ہے اور نہیں ہے
ایذا کے سوا لذت ایذا بھی ملے گی
کیوں جلوہ گہ ہوش یہاں دل بھی کہیں ہے
مایوس سہی حسرتی موت ہوں فانیؔ
کس منہ سے کہوں دل میں تمنا ہی نہیں ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست