اللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہے

فانی بدایونی


اب لب پہ وہ ہنگامۂ فریاد نہیں ہے
اللہ رے تری یاد کہ کچھ یاد نہیں ہے
آتی ہے صبا سوئے لحد ان کی گلی سے
شاید مری مٹی ابھی برباد نہیں ہے
اللہ بچائے اثر ضبط سے ان کو
بیداد تو ہے شکوۂ بیداد نہیں ہے
اپنی ہی بدولت ہے نشیمن کی خرابی
منت کش بے دردی صیاد نہیں ہے
آمادۂ فریاد رسی ہے وہ ستم گر
فریاد کہ اب طاقتِ فریاد نہیں ہے
دنیا میں دیارِ دل فانیؔ کے سوا ہائے
کوئی بھی وہ بستی ہے جو آباد نہیں ہے
مفعول مفاعیل مفاعیل فَعُولن
ہزج مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست