دعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کو

فانی بدایونی


خدا اثر سے بچائے اس آستانے کو
دعا چلی ہے مری قسمت آزمانے کو
نہ پوچھئے کہ محبت میں مجھ پہ کیا گزری
نہ چھیڑیے مرے بھولے ہوئے فسانے کو
یہ شعبدے یہ کرشمے کسے میسر تھے
تری نگاہ نے سکھلا دیے زمانے کو
چمن میں برق نے جھانکا کہ ہم لرز اٹھے
اب اس سے آگ ہی لگ جائے آشیانے کو
خیالِ یار بھی کھویا ہوا سا رہتا ہے
اب ان کی یاد بھی آتی ہے بھول جانے کو
نگاہِ لطف نہ فرما نگاہِ ناز کے بعد
جگر میں آگ لگا کر نہ آ بجھانے کو
زمانہ بر سر آزار تھا مگر فانیؔ
تڑپ کے ہم نے بھی تڑپا دیا زمانے کو
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست