مگر منجملۂ آداب غم خواری ہے غم میرا

فانی بدایونی


وہ کہتے ہیں کہ ہے ٹوٹے ہوئے دل پر کرم میرا
مگر منجملۂ آداب غم خواری ہے غم میرا
وہاں سجدے سے اب تک قدسیوں کے سر نہیں اٹھتے
پڑا تھا جس جگہ راہِ محبت میں قدم میرا
زہے تقدیر ناکامی کہ تیری مصلحت ٹھہری
تری مرضی سے وابستہ ہوا اللہ رے غم میرا
نہ جانیں اس سفر کی منزلِ اول کہاں ہو گی
فنا کی آخری منزل پہ ہے پہلا قدم میرا
مرے جوش طلب کی شانِ استغنا کوئی دیکھے
کہ میں رہبر سے آگے مجھ سے آگے ہے قدم میرا
میں وہ آزردۂ وہم مسرت ہوں معاذ اللہ
کہ غم کو غم سمجھنے سے بھی گھبراتا ہے دم میرا
یہ محروم تبسم میرِ سامان تبسم ہے
تری بزمِ طرب میں معتبر ہے اشکِ غم میرا
اب آگے کس سے لکھا جائے آغازِ محبت پر
فسانہ ختم کر دیتے ہیں ارباب قلم میرا
مری آوارگی ہر قید سے بے زار ہے شاید
کہ اب اس کی گلی میں بھی گزر ہوتا ہے کم میرا
بقا کہتے ہیں جس کو وہ مرا احسان ہے فانیؔ
وہ حادث ہوں کہ دنیائے قدم بھرتی ہے دم میرا
مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن
ہزج مثمن سالم
فہرست