مگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے

فانی بدایونی


مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلۂ قیدِ حیات
مگر اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے
اثرِ عشق تغافل بھی ہے بیداد بھی ہے
وہی تقصیر ہے تعزیر بدل جاتی ہے
کہتے کہتے مرا افسانہ گلہ ہوتا ہے
دیکھتے دیکھتے تقدیر بدل جاتی ہے
روز ہے دردِ محبت کا نرالا انداز
روز دل میں تری تصویر بدل جاتی ہے
گھر میں رہتا ہے ترے دم سے اجالا ہی کچھ اور
مہ و خورشید کی تنویر بدل جاتی ہے
غم نصیبوں میں ہے فانیؔ غمِ دنیا ہو کہ عشق
دل کی تقدیر سے تدبیر بدل جاتی ہے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست