مجھے ہر شے پرانی لگ رہی ہے

اکبر حمیدی


گئی گزری کہانی لگ رہی ہے
مجھے ہر شے پرانی لگ رہی ہے
وہ کہتا ہے کہ فانی ہے یہ دنیا
مجھے تو جاودانی لگ رہی ہے
یہ ذکر آسماں کیسا کہ مجھ کو
زمیں بھی آسمانی لگ رہی ہے
وہ اس حسن توجہ سے ملے ہیں
یہ دنیا پر معانی لگ رہی ہے
غزل دنیا میں رہتا ہوں میں اکبرؔ
یہ میری راجدھانی لگ رہی ہے
مفاعیلن مفاعیلن فَعُولن
ہزج مسدس محذوف
فہرست