وہ محبت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے

احمد فراز


اے خدا آج اسے سب کا مقدر کر دے
وہ محبت کہ جو انساں کو پیمبر کر دے
سانحے وہ تھے کہ پتھرا گئیں آنکھیں میری
زخم یہ ہیں تو مرے دل کو بھی پتھر کر دے
صرف آنسو ہی اگر دستِ کرم دیتا ہے
میری اجڑی ہوئی آنکھوں کو سمندر کر دے
مجھ کو ساقی سے گلہ ہو نہ تنک بخشی کا
زہر بھی دے تو مرے جام کو بھر بھر کر دے
شوق اندیشوں سے پاگل ہوا جاتا ہے فراز
کاش یہ خانہ خرابی مجھے بے در کر دے
فاعِلاتن فَعِلاتن فَعِلاتن فِعْلن
رمل مثمن مخبون محذوف مقطوع
فہرست