یہ کیا کہ دل کو ہمیشہ اداس کر لانا

احمد فراز


جہاں بھی جانا تو آنکھوں میں خواب بھر لانا
یہ کیا کہ دل کو ہمیشہ اداس کر لانا
میں برف برف رتوں میں چلا تو اس نے کہا
پلٹ کے آنا تو کشتی میں دھوپ بھر لانا
بھلی لگی ہمیں خوش قامتی کسی کی مگر
نصیب میں کہاں اس سرو کا ثمر لانا
پیام کیسا مگر ہو سکے تو اے قاصد
کبھی کوئی خبر یار بے خبر لانا
فراز اب کے جب آؤ دیارِ جاناں میں
بجائے تحفۂ دل ارمغانِ سر لانا
مفاعِلن فَعِلاتن مفاعِلن فِعْلن
مجتث مثمن مخبون محذوف مسکن
فہرست