پہلے جو درد تھا وہی چارا ہے ان دنوں

قتیل شفائی


دل کو غمِ حیات گوارا ہے ان دنوں
پہلے جو درد تھا وہی چارا ہے ان دنوں
ہر سیل اشک ساحل تسکیں ہے آج کل
دریا کی موج موج کنارا ہے ان دنوں
یہ دل ذرا سا دل تری یادوں میں کھو گیا
ذرے کو آندھیوں کا سہارا ہے ان دنوں
شمعوں میں اب نہیں ہے وہ پہلی سی روشنی
کیا واقعی وہ انجمن آرا ہے ان دنوں
تم آ سکو تو شب کو بڑھا دوں کچھ اور بھی
اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست