میں بے نیاز حلقۂ زنجیر ہو گیا

قتیل شفائی


جب سے اسیرِ زلفِ گرہ گیر ہو گیا
میں بے نیاز حلقۂ زنجیر ہو گیا
جاتا کہاں بھلا تری محفل کو چھوڑ کر
میں اپنے آپ پاؤں کی زنجیر ہو گیا
نور جہاں کوئی نہ کوئی یوں تو سب کی تھی
دولت سے ایک شخص جہانگیر ہو گیا
مجھ میں رچی ہوئی تری خوشبو تھی اس لیے
بڑھ کر عدو بھی مجھ سے بغل گیر ہو گیا
پھر باندھ لی کسی سے امیدِ وفا قتیلؔ
پھر اک محل ہواؤں میں تعمیر ہو گیا
مفعول فاعلات مفاعیل فاعِلن
مضارع مثمن اخرب مکفوف محذوف
فہرست